ایک طالبِ علم کے سوال کا جواب
سوال: آپ کے مطالعے کا طریقۂ کار کیا ہے؟
جواب:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
میرے نزدیک ایک طالبِ علم کے لیے مطالعے کی بہترین ابتدا قرآنِ کریم سے ہونی چاہیے؛ کیونکہ اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں، اور اس کے سکھانے والے سے بڑھ کر کوئی استاد نہیں۔ یہی وہ کتاب ہے جو انسان کی عقل کو جِلا، دل کو نور، کردار کو پاکیزگی اور زندگی کو صحیح سمت عطا کرتی ہے۔
اسی لیے میں روزانہ نمازِ فجر کے بعد تقریباً تیس سے چالیس منٹ خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز میں قرآنِ مجید کی تلاوت کرتا ہوں۔ اس کے بعد ترجمہ اور مختصر تفسیر کا مطالعہ میرا معمول ہے، تاکہ تلاوت کے ساتھ ساتھ فہمِ قرآن کی نعمت بھی نصیب ہوتی رہے۔
ابتدا میں میری عادت یہ تھی کہ روزانہ چار یا پانچ آیات، یا کبھی ایک صفحہ سمجھ کر پڑھ لیتا تھا؛ لیکن جب دورانِ تعلیم ایک کتاب میں یہ بات پڑھی کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم دس آیات سیکھتے، انہیں اچھی طرح سمجھتے، ان پر عمل کرتے، پھر آگے بڑھتے تھے، تو میں نے بھی اسی طرزِ عمل کو اختیار کرنے کی کوشش کی۔ اب میری کوشش رہتی ہے کہ روزانہ کم از کم دس آیات کا ترجمہ اور مختصر تفسیر ضرور پڑھوں، تاکہ علم کے ساتھ عمل اور فہم بھی پروان چڑھے۔

مراجعہ (دہرائی) کا طریقۂ کار
میرے نزدیک علم کی بقا کا راز مراجعہ ہے۔ جو چیز دہرائی نہ جائے، وہ رفتہ رفتہ حافظے سے محو ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے میں کوشش کرتا ہوں کہ روزمرہ کے معمولات ہی نہیں، بلکہ سفر کو بھی علم کے لیے مفید بنا دوں۔
جب کبھی سفر درپیش ہو تو روانگی سے پہلے صراط الجنان یا دیگر علمی کتب کی آڈیو اپنے موبائل میں محفوظ کر لیتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سفر کے دوران، خصوصاً بس، ٹرین یا دیگر سواریوں میں، پوری یکسوئی کے ساتھ کتاب کا مطالعہ کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
اسی حقیقت کی طرف رسولِ اکرم ﷺ نے بھی اشارہ فرمایا ہے:
"السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ"
ترجمہ: "سفر عذاب کا ایک حصہ ہے؛ یہ انسان کے کھانے، پینے اور آرام میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا جب سفر کا مقصد پورا ہو جائے تو جلد اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ آئے۔"
(صحیح بخاری، حدیث: 1804، دار الکتب علمیہ، بیروت)
ایسے حالات میں تفسیرِ قرآن یا دیگر مفید کتب کو سننا میرے لیے بہترین متبادل ثابت ہوتا ہے۔ اس سے پہلے سے کیے ہوئے مطالعے کا مراجعہ بھی ہو جاتا ہے، وقت بھی ضائع نہیں ہوتا، اور سفر کے باوجود علمی ذوق برقرار رہتا ہے۔ یوں ہر سفر علم میں اضافے، سابقہ معلومات کی تجدید اور فکر و مطالعہ کے تسلسل کا ایک خوبصورت ذریعہ بن جاتا ہے۔

میرا یقین ہے کہ مطالعہ صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسان کی سوچ، کردار اور شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ اسی لیے میں کوشش کرتا ہوں کہ جو کچھ پڑھوں، اسے سمجھوں، یاد رکھوں اور حتیٰ المقدور اپنی عملی زندگی میں بھی جگہ دوں۔ علم وہی نافع ہے جو انسان کے اخلاق، عمل اور تعلقِ باللہ میں اضافہ کرے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ کریم سے سچی محبت، علمِ نافع، عملِ صالح اور مطالعے میں اخلاص و استقامت عطا فرمائے، اور ہمارے علم کو ہمارے لیے دنیا و آخرت میں نفع بخش بنائے۔ آمین۔
(نوٹ: یہ صرف قرآن کے متعلق سوال کا جواب دیگر کتب کا مطالعہ الگ رہا۔)

از-✍️ محمد عادل الماتریدی الأزہری
01 /جولائی/ 2026، بروز: بدھ