"السکوت خیر من الکلام " خاموش رہنا بولنے سے اچھا ہے ۔ خاموشی نعمت عظمیٰ ہے اس کہ ذریعے اللہ رب العزت صحیح علم اور راہ نجات کا شعور عطا فرماتا ہے ۔ شہر کے شور میں کچھ آوازیں خاموش ہوتی ہے جو چیختی نہیں ہے مگر روح کو چیر دیتی ہے۔ بڑے سے بڑے مسئلے خاموشی سے ٹل تو جاتے ہے لیکن خاموش رہنے والے کے دل میں گہرا زخم چھوڑ جاتے ہے ۔ جب روح کو اذیت پہنچتی ہے تو انسان روتا نہیں، بڑ بڑاتا نہیں بلکہ خاموش ہوجاتا ہے اور یہ خاموشی صحیح وقت کا انتظار کرتی ہے ۔ کبھی کسی کی ذات کو اتنی تکلیف نہیں دینا چاہے کہ وہ خاموش ہو جاۓ اور تمھاری شکایت رب و رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حضور کرے ۔ خاموش رہنے والا شخص اپنی آخرت تو بنا لیتا ہے لیکن سامنے والے کی آخرت خسارے میں پڑ جاتی ہے ۔ جب جذبات ، احساسات ختم ہونے لگتے ہے تو زبانیں خاموش ہو جاتی پھر وہ محبتیں نہیں ہوا کرتی جو پہلے ہوا کرتی تھی ۔ اگر کوئی آپ کی ذات کو تکلیف پہنچائے رب کی رضا کے لیے معاف کر کے خاموش ہوجاۓ اتنا خاموش کہ لوگ تمہارے بولنے کا انتظار کرے۔
11 جولائی 2026
ارم رضویہ✒️