انسان آنکھ رکھ کر بھی حق و باطل کو نہ پہچانے، پہلے کی قوموں کے عذاب سے سبق حاصل نہ کرے، کفر و شرک کی گندگی سے نہ بچے تو وہ آنکھ کا نہیں بلکہ دل کا اندھا ہے۔ 
چنانچہ قرآن پاک میں ہے: 
" اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَاۚ-فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ"
(پارہ: 17، سورہ:حج، آیت:46)
ترجمہ: تو کیا زمین میں نہ چلے۔ کہ ان کے دل ہوں جن سے سمجھیں۔ یا کان ہوں جن سے سنیں، تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں۔ بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
آیت کریمہ سے معلوم ہوا، صدق و کذب کو پہچاننا، سابقہ قوموں کے احوال سے نصیحت حاصل کرنا، کفر و شرک کی گندگی سے بچنا، دنیا میں مشاہدات کے ذریعہ غور و فکر کرنا اور اس کو سوچنا سمجھنا، غفلت سے بیدار رہنا آنکھ کا کام نہیں بلکہ دل کا روشن ہونا ہے۔
تفسیر روح البیان میں ہے:
حضرت سہل رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:
 جس شخص کا دل بصیرت سے روشن ہو وہ نفسانی خواہشات اور شہوتوں پر غالب رہتا ہے اور جب وہ دل کی بصیرت سے اندھا ہو جائے تو ا س پر شہوت غالب آ جاتی ہے اور غفلت طاری ہو جاتی ہے ، اس وقت اس کا بدن گناہوں  میں  گم ہو جاتا ہے اور وہ کسی حال میں  بھی حق کے سامنے گردن نہیں  جھکاتا۔
(روح البیان، الحج، تحت الآیۃ: ٤٦، ٦ / ٤٥)
ہر اچھے کام کے لئے آنکھ کا دیکھنا نہیں بلکہ دل کا روشن ہونا ضروری ہے۔ آنکھ دل کا دروازہ ہے۔ جب دل روشن تو تمام اعضاء روشن ہوں گے۔ تو حقائق و احوال کو قبول کریں گے۔ ہر بری بات سے بچیں گے۔ اچھے کام انجام دیں گے۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
✍️از- محمد عادل الماتریدی الازہری
02/ستمبر/ 2025، بروز: منگل