مثلاً سوشل میدیا پر ایک آپشن اسٹیٹس نام سے ہے۔ جس پر اچھی بری چیزیں لگائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ اسلام سے متعلق تقاریر و تحاریر، اسلامی افعال و اقوال اور نعت و منقبت وغیرہ لگاتے ہیں۔ وہ ان کے ذریعہ لوگوں کی اصلاح، دینی معلومات، اور اچھا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اس کو اسلامی اسٹیٹس بھی کہ سکتے ہیں۔اگر لگانے والوں کی نیت خیر ہو تب تو وہ اجر و ثواب کے بھی مستحق ہوں گے۔ اور اس کو شیئر کرنے والے بھی ثواب پائیں گے جیسا کہ قرآن پاک میں نیکی پر مدد کرنے کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قرآن مجید میں ہے:
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى۔
(پارہ:٦، سورہ:مائدہ، آیت:۲)
ترجمہ: نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔ (کنزالایمان)
لیکن تجربات و مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے اسٹیٹس پر گانے، باجے، فلمی ڈرامیں، فحش بازی، بدکلامی، بدکاری، ریاکاری، تمسخر بازی اور شرارت و خرافات پر مشتمل مواد لگاتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے اسٹیٹس اسلام میں ناجائز و حرام اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں جہنم میں لے جانے والے ہیں اور شریعت کی نگاہ میں ایسے لوگ فاسق و فاجر ہوتے ہیں یعنی جو کھلم کھلا گناہ کا ارتکاب کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے اسٹیٹس کو شیطانی اسٹیٹس بھی کہہ سکتے ہیں۔اورجو لوگ ایسے اسٹیٹس کی تحسین کرتے ہیں ،انہیں اچھا کہتے ہیں ،ان کی موافقت کرتے ہیں وہ لوگ بھی ارتکاب گناہ میں برابر کے شریک ہوتے ہیں اور خلافِ قرآن مجید عمل کرتے ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف ارشاد فرمایا ہے کہ گناہ پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۔ (ایضا)
ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم (ایک دوسرے کی، آپس میں) مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔(ایضا)
حل:
شیطانی اسٹیٹسوں سے بچنا ہر مسلمان کے لیے لازم و ضروری ہے۔خود بھی بچیں اور جو لوگ فحش اسٹیٹس لگاتے ہیں انہیں سمجھائیں، اگر نہ مانیں تو ان کو اپنی آئیڈی وغیرہ سے بلاک کر دیں اور خود کی گناہوں سے حفاظت کریں۔
قرآن مجید میں ہے:
وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
(پارہ ۷، سورہ انعام، آیت: ۶۸)
ترجمہ: اور جو کہیں تجھے شیطان بھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ (کنز الایمان)
تفسیرات احمدیہ میں اس آیت کی تفسیر میں ہے:
"وان القوم الظالمین یعم المبتدع والفاسق والکافر، والقعود مع کلھم ممتنع"
ترجمہ:اور آیت کریمہ میں لفظ "ظالمین" کا عموم بدعتی، فاسق اور کافر تمام کو شامل ہے، لہذا ان میں سے ہر ایک کے ساتھ نشست و برخاست ممنوع و ناجائز ہے.
( تفسیرات احمدیہ، صفحہ:۳۶۳، زکریا)
اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور برے اعمال سے بچائے۔آمین
از- محمد عادل ماتریدیؔ از ہری